بر طانوی مسلمانوں کے وفد کا دورہ پاکستان (02/06/2008)

بر طانوی مسلمانوں کا ایک وفد ایک ہفتے کے لئے پاکستان پہنچا ہے جو اسلام آباد اور میر پور کے دورے پر جائیگا۔ پاکستان کے ان دونوں شہروں کا بر طانیہ میں مقیم پاکستانیوں سے گہرا تعلق ہے۔

چھ اراکین پر مشتمل اس وفد میں وہ پاکستانی نژاد بر طانوی شہری شامل ہیں جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کامیاب ہیں۔ان کا پاکستان کا یہ دورہ " بر طانوی اسلام کا فروغ" پروگرام کا حصہ ہے جو بر طانوی  وزارت خارجہ و دولت مشترکہ کے تعاون سے کام کرتا ہے۔ اراکین تعمیری بات چیت اور بحث و مباحثے کے ذریعے اپنے وہ تجربات پیش کریں گےجو آج کے بر طانیہ میں بحیثیت ایک مسلمان انہیں حاصل ہوتے رہے ہیں۔

 

پاکستان میں اپنے ایک ہفتے کے قیام کےدوران یہ گروپ مختلف عناصر سے ملاقاتیں کرے گا جن میں سیاستداں، یونیورسٹی کے طلبہ، سول سوسائٹی گروپ اور میڈیا شامل ہے۔اس سطح کے رابطے اور باہمی میل ملاپ سے مماثلت اور فرق دونوں کی شناخت  کی جا سکتی ہے، اس سے بھی اہم تر بات یہ ہے کہ  اس سے کمیونٹیز کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور احترام میں اضافہ ہوتاہے۔

 

وفد میں بر طانیہ بھر کی کمیونٹیز سے مسلمانوں کی وسیع تر نمائندگی کی عکاسی کی گئی ہے ۔

 

اراکین میں اسلامک ریلیف کے یوکے منیجر جہانگیر ملک، مسلم یوتھ ہیلپ لائن کے محمدعمران، واٹر ہاؤس کنسلٹنگ گرو پ میں  ہیڈ آف مسلم انگیجمنٹ زرین روحی، کیو ای ڈی یوکے کی چیف ایگزیکیٹو ادیبہ ملک، ابراہیم فاؤنڈیشن کے بانی عزیز ابراہیم اور

آل ویلز سہیلی ایسوسی ایشن کے بانی اور ڈائریکٹر شاہین تاج شامل ہیں۔

 

"بر طانوی اسلام کا فروغ"پروگرام کے تحت اس قسم کے وفد پہلے مصر، بحرین، لیبیا، بھارت، سوڈان، نائجیریا، افغانستان

بنگلا دیش ، فرانس، امریکا، ملیشیا، سنگا پور ، کینیڈا اور بو سنیا بھیجے جا چکے ہیں

 

  

 وفد پاکستان میں 7۔1 جون تک قیام کرے گا ۔ اس کے پروگرام میں اسلام آباد اور

میر پور میں رابطے شامل ہیں

 

وفد کی سر گر میاں 

 

جہانگیر ملک کے تاثرات 03جون 2008

 

وفد کے رکن اسلامک ریلیف کے یوکے منیجر جہانگیر ملک نے ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر ہونے والے بم دھماکے پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ

 

"آج کا دن ملے جلے احساسات کا دن تھا، جب ہم اسلام آباد سے چلے تو ہمیں ڈینش سفارتخانے کے قریب خوفناک بم دھماکے کے بارے میں معلوم ہوا۔ ہم اس بھیانک جرم کے شکار معصوم افراد کے لئے دعاگو ہیں اور اظہار تعزیت کرتے ہیں۔دوسری طرف آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ سے خلیجوں کو پاٹنے اور تصورات کو چیلنج کرنے کے بارے میں گفتگو بڑی خیال انگیز رہی۔۔۔''۔

 

 

وفد نے فاطمہ جناح یونی ورسٹی کا دورہ کیا 04 جون 2008                                                                                   

 بر طانیہ کے مسلمانوں کا ایک وفد ان دنوں''برطانوی اسلام کا فروغ'' پروگرام کے تحت پاکستان کے دورے پر ہے۔ وفد کو فاطمہ جناح یونی ورسٹی میں مدعو کیا گیا تاکہ وہ برٹش کونسل ایکٹوسٹیزن شپ پروگرام کی خواتین شر کا سے ملاقات کر سکیں۔برٹش کونسل کا یہ پروگرام نوجوان رہنماؤں کو ایک مثبت سماجی تبدیلی لانے اور فعال شہری بننے کے لئے جدوجہد کرنے میں معاونت کرتا ہے۔یہاں وفد کے اراکین کو طلبہ کے ساتھ خیال انگیز گفتگو کے مواقع ملے۔یہ تبادلہ خیال بڑا پر مغز تھا اور اس سے واضح ہورہا تھا کہ لوگوں میں آگے بڑھنے اور اس نظریے کو باطل قرار دینے کا جذبہ پایا جاتا ہے کہ اسلام اور دہشت گردی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

 

طلبہ کا کہنا تھا کہ ہر شخص اس خلیج کے آر پار بہتر افہام و تفہیم پیدا کرنے میں مل جل کر ایک کردار ادا کر سکتا ہے۔

 

وفد نے مدرسہ فر قانیہ کا دورہ بھی کیا اور مختلف درجوں کے طلبہ سے ان کا پر جوش تبادلہ خیال ہوا۔ وفد کے اراکین کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا اور انہیں مغرب کے بارے میں کئی غلط فہمیوں پر بات کرنے کا موقع بھی ملا۔

 

پاکستان کے وزیر خارجہ نے بھی وقت نکال کر گروپ کے ساتھ ایک متحرک اور کھلے بحث مباحثے میں حصہ لیا۔انہوں نے وفد کے اراکین کی بر طانیہ کے لئے خدمات کو سراہتے ہوئے اس خوا ہش کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی انہیں نوجوان برٹش پاکستانی ماہرین کے اس طرح کے وفود سے رابطوں کا موقع ملتا رہے گا۔

 

 

زرین روحی کے تاثرات

مجھے آج صبح پاکستانیوں کو سڑکوں پر مظاہرہ کرتے دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی یہ مظاہرہ ڈینش سفارتخانے پر بم دھماکےکے بعد ایک بار پھر کارٹونوںکی اشاعت کے سلسلے میں کیا جارہا تھا۔ میں ، یقینا، لوگوں کے پر امن طریقے سے مظاہرہ کرنے کے جمہوری حق کی حمایت کرتی ہوں اور ہم جتنے لوگوں سے ملے ان کی اکثریت نے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی لیکن ان مظاہروں نے ایک بار پھر مجھے احساس دلایا کہ ابھی پاکستانی عوام کو یہ بتانے کے لئے کتنا کام کرنے کی ضرورت ہے کہ ڈینش سفارتخانے پر بم دھماکے کے بعد اس قسم کے مظاہرے پاکستان سے باہر کتنے منفی اثرات پیدا کرسکتے ہیں۔اس سے مجھے اپنے وفد کی طرح کی مزید پہل کاریوں کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوا ہے۔

 

 ہم جہلم کے ناظم چوہدری فرخ الطاف سے بھی ملے ۔ ان سے ملاقات تازہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا ثابت ہوئی اور انہوں نے

بر طانیہ کے پاکستانیوں کو ایک پیغام دیتے ہوئے کہاکہ" بر طانیہ میں آباد پاکستانیوں سے کہہ دیجیئے گا کہ بر طانیہ ان کا وطن ہے اور وہ اس ملک کے لئے اپنا کردار ادا کریں"۔

 

 

ادیبہ ملک کے تاثرات

 

آج صبح ساڑھے نو بجے میں راو لپنڈی میں مدرسہ فرقانیہ میں داخل ہوئی اور پانچ منٹ کے اندر ہی اندر میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ مجھے چار سے پانچ سال کے چھوٹے چھوٹے پاکستانی بچوں کا ایک گروپ ایک چھوٹےسے کمرے میں نظر آیا یہ بچے میلے کپڑوں میں ملبوس، سر پر ٹوپی یا حجاب پہنے قران کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔ یہ بڑے پیارے اور خوبصورت بچے تھے۔یہی ان کی تعلیم ہے۔ مجھے اس عمر میں بر طانیہ میں جو تعلیم ملی اس سے اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔بی بی سی کے نمائندے نے مجھے روتا دیکھ کر پوچھا کہ میں کیوں رو رہی ہوں۔ میں نے کہا" اللہ جانے مستقبل میں ان کے لئے کیا لکھا ہے۔ ان کی یہ محرومی ان کے لئے غربت کا یقینی سبب بنے گی، ان کے سر پرست کون ہوں گے ، مولوی حضرات۔ ان میں سے اکثر کا تو کوئی مستقبل نہیں ہوگا، میرا مطلب ہے کہ ایسا مستقبل جو ہر بچے کا حق ہے"۔ اور پھر میں نے سوچا کہ اگر میں ان کی جگہ ہوتی تو!!!!

 

میرے والدین پاکستان سے نکل کر ایک تکلیف دہ اور مشکل سفر کے بعد بر طانیہ پہنچےتھے۔ اس سے مجھے اور میرے خاندان کو مواقع ملے جنہیں میں نے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور اسی لئے آج میں کامیاب ہوں۔

 

 

 مزید معلومات کے لئے دیکھیئے

 

www.britainonline.org.pk

 

رابطے کے لئے:ایڈین لڈل، پریس اینڈ پبلی کیشن سیکشن، بر ٹش ہائی کمیشن اسلام آباد

 

051-2012000, email: bhcmedia@dsl.net.pk

 

 

نوٹس برائے ایڈیٹرز

 

تلاش کے لئے اشارے

واپس اوپر