لوکیٹ: ہنگامی صورتحال میں شہریوں کی تلاش کے لئے نئی سروس (17/05/2008)

و زارت خارجہ نے ایک نئی سروس "لوکیٹ" شروع کی ہے۔اس سے ان برطانویوں کاپتا چلایا جاسکے گا جو بیرون ملک کسی پریشانی میں گرفتار ہو گئے ہوں۔ایک سروے سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ ہم میں سے ایک تہائی لوگوں کویہ علم ہی نہیں ہوتا کہ بیرون ملک سفرپر گئے ہوئےان کےعزیزکہاں ہیں۔ہم میں سے آدھے سے زیادہ لوگ اپنے عزیزوں یا دوستوں کو اپنے سفرکی تفصیلات سے آگاہ ہی نہیں کرتے۔

 

اب بیرون ملک سفرپر جانے والے لوگ کسی پریشانی میں گھر جانے کی صورت میں وزارت خارجہ کی مدد حاصل کرسکیں گے ۔وہ لوکیٹ پراپنے سفر کی تفصیلات کے علاوہ اپنے کسی دوست یا عزیز سے رابطےکی تفصیلات بھی درج کیا کریں گے۔

 

وزارت خارجہ نے یہ سروس سفرکے بدلتے ہوئے رحجانات کی وجہ سے شروع کی ہے۔اب پہلے سے کہیں زیادہ لوگ سفرکرتے ہیں۔ ایک جائزےکے مطابق 68،000،000برطانوی شہریوں نے 2006 میں بیرون ملک کا سفر کیا۔بیرون ملک جانےوالے افراد کی 96 فی صدتعداد سال میں تین بار سفرکرتی ہے اور

 بر طانیہ کے پانچ ملین سے زیادہ افرادایک سال یا اس سے زائدعرصے تک باہر قیام کرتے ہیں۔

 

اس کے علاوہ ہم ان علاقوں کاسفربھی کرتے ہیں جہاں عام طور سے کچھ نہ کچھ گڑبڑرہتی ہے۔لیکن یہ ضروری نہیں کہ گڑبڑصرف دوردرازاور نت نئے علاقوں میں ہی پیش آئے ۔بلکہ جیساکہ گزشتہ موسم گرمامیں یونان میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا یاترکی،مصراوربالی جیسے مقبول تفریحی مقامات پر حال میں بمکے دھماکے ہوئے، ایسے واقعات کہں بھی پیش آسکتے ہیں۔

 

کسی بھی بحران میں براہ راست ملوث ہونے کے امکانات اگرچہ کم ہوتے ہیں لیکن برطانیہ کے پانچ میں سے ایک فردکاکہناہے کہ وہ کسی نہ کسی سانحے کے وقت بیرون ملک تھے اورانہیں برطانیہ میں کسی جاننے والے کواپنی خیریت کی اطلاع دیناپڑی تھی۔لیکن ایسے وقت پر رابطہ کرنا بھی مشکل ہوجاتاہےاور عزیزوں اور دوستوں کوخیریت کی اطلاع نہ ملے تو پریشانی کا باعث ہوتا ہے اور کونسلر سروس بھی ان تک نہیں پہنچ پاتی جن کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

لوکیٹ ایک دوطرفہ سروس ہے ، کوئی ہنگا می صورتحال ہو توپریشان عزیزاور دوست بھی اس شخص کی تفصیلات درج کرسکتے ہیں جو ان کے خیال میں اس صورتحال میں گھراہواہوسکتا ہے۔اگرمسافرنے اپنی خیریت کی اطلاع وزارت خارجہ کوپہنچادی تو لوکیٹ فکرمندعزیزتک اچھی خبر پہنچاسکتا ہے۔

 

وزارت خارجہ کی وزیرمیگ من نے اس موقع پرلوکیٹ کے بارے میں کہاکہ "بیرون ملک معمولات سے دور رہ کر وقت اچھا گزرتاہے لیکن صورتحال کسی بھی ملک میں کبھی بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔ ہمارے سروے کے مطابق دس میں سے نو برطانویوں کاکہناہےکہ انہیں یہ جان کربڑی تسلی رہے گی کہ بیرون ملک کسی ہنگامی صورتحال کے وقت مقامی برطانوی سفارتخانہ انہیں جلد تلاش کرلے گا۔آپ خواہ مختصر وقت کے لئے جائیں یاسال بھرسفرکرتے رہنے کاارادہ ہو، اگرہمیں تفصیلات دے کرجائیں تو کسی پریشان کن واقعے کی صورت میں یا توہم آپ تک پہنچ سکیں گے یاہمیں یہ علم ہوسکےگا کہ آپ محفوظ ہیں تو ہم دوسرے ضرورتمندوں کے لئے اپنے وسائل استعمال کرسکیں گے"۔

 

وزارت خارجہ کامشورہ یہ ہے کہ مسافروں کوچاہئیے کہ وہ لوکیٹ کواپنی قبل ازسفر عام چیک لسٹ میں شامل کرلیں یعنی:

 

جامع ٹریول انشورنس کرانا ہے

 

ٹیکےلگوانے ہیں

 

جس ملک کا سفرکرنا ہو وہاں کے قوانیں اور رسم و رواج کے بارے میں معلوم کرنا ہے

 

اہم کاغذات کی فوٹوکاپی یاانکو آن لائن کسی محفوظ سائٹ پر محفوظ کرناہے

 

یورپ کے سفر میں یورپئین ہیلتھ انشورنس کارڈ(ای ایچ آئی سی) ساتھ رکھناہے


ٹریول چیک لسٹ


اپنے سفر کی  تفصیلات لوکیٹ پر درج کیجیئے

 

 

تلاش کے لئے اشارے

واپس اوپر