جمہوریت کی مشکلات: پاکستان اور افغانستان (27/05/2008)

مقام سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز واشنگٹن

اسپیکر فارن سکریٹری ڈیوڈ ملی بینڈ

تاریخ 21 May 2008

"جمہوریت کبھی دیر پا نہیں ہوتی۔ وہ جلد ہی ناکارہ ہوجاتی ہے، تھک جاتی ہے اور اپنے آپ کو خود ہلاک کر لیتی ہے۔ایسی کوئی جمہوریت کبھی نہیں آئی کہ جس نے خودکشی نہ کی ہو''۔

 

امریکا کے دوسرے صدر جان ایڈمز کے یہ الفاظ بالکل غلط ثابت ہوئے۔جمہوریت بڑی جاندار نکلی۔بیسویں صدی کی آخری چو تھائی میں جمہوریت نے اپنے سفر میں لاطینی امریکہ اور افریقہ کو پار کیا اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ وسطی اور مشرقی یورپ تک بھی آپہنچی۔

 

لیکن حال میں اس کی رفتار سست ہو گئی ہے۔ چند صورتوں میں تو یہ پیچھے بھی چلی گئی ہے۔سوالات کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اقتصادی اور سیاسی آزادی کے گٹھ جوڑ پر سوال اٹھا ہے۔ہم نے جمہوری نشوونما کے ساتھ ساتھ 'جمہوری انحطاط ' کی باتیں سنی ہیں۔چند سب سے کم عمر اور کمزور ترین جمہوریتوں کو اپنے گھر میں شکوک اور باہر جبریت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

میری آج یہ درخواست ہے کہ عاجزی اور احتیاط کے ساتھ ہم جمہوری اقدار میں اپنے نظریات اور عقائد پر  جمے رہیں: وہ یقین جو انسانوں کی یکساں قدرو قیمت اور انہیں اپنی مر ضی کی زندگی گزارنے کا اختیار حاصل ہونے پر ہے اور ان عزائم کے لئے سیاسی نظام کی ضرورت ہے۔

 

بر طانیہ کے قومی مفاد کے حصول کے لئے جمہوری احتساب کا عام ہونا ضروری ہے۔جمہوریت ، متصادم مفادات اور تلخیوں کو تشدد کی بجائے سیاست کے ذریعے سلجھاتی ہے۔وہ خوشحالی اور استحکام کے لئے بہترین سر مایہ کاری اور قحط اور جنگ کے خلاف بہترین حفاظتی تدبیرہے۔

 

اور جب عالمی سطح پرہر دس میں سے آٹھ افراد یہ کہیں کہ وہ جمہوری نظام میں رہنا چاہتے ہیں ، جب افغانستان جیسا ملک جہاں تیس سال انتخابات نہ ہوئے ہوں، حلقہ انتخاب کے ستر فی صد یعنی تقریبا8

 ملین افراد کو ووٹ ڈالنے کے لئے باہر لے آئے، جب انڈو نیشیا اور ترکی جیسے ملک جمہوریت اور اسلام کے ملاپ کا اپنا راستہ نکال لیں تو میں سمجھتا ہوں کہ جمہوری اقدار کی عالمگیریت پر زور دینا جائز ہے

 

جہاں ہمیں جمہوریت کی توسیع کا دفاع کرنے میں مستحکم ہونا چاہئے وہیں ہمیں جمہوریت کے سفرکی کامیابیوں اور ناکامیوں سے سبق بھی سیکھنا چاہیئں ، خا ص طور پر ان ملکوں سے جہاں اس کے قدم ڈگمگا ئے ہیں۔

 

میری دلیل یہ ہے کہ پائیدار جمہوریت کے لئے ایک ایسی ریاست جو اپنے شہریوں کو تحفظ، فلاح و بہبود اور انصاف دے سکے اور ایسا احتساب دونوں ہی درکار ہیں جو اس کی ضمانت دے کہ ریاست ، عوام کی خادم ہو نہ کہ آقا۔ ایک فعال ریاست کے بغیر، غیر قانونیت اور بد نظمی پھیل جاتی ہےاور شہریوں کی آزادیاں ریاست سے باہر طاقتور قوتوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔احتساب کے بغیر ، جو کہ انتخابات کے ذریعے ، ایک آزاد پریس کے ذریعے ، رضاکارانہ تنظیم کے ذریعے ، انسانی حقوق کے قانونی تحفظ کے ذریعے کیا جاتا ہے ، ریاست کی طاقت پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا اور شہریوں کی آزادیاں ریاست کے اندر اشرافیہ کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ ریاست کی استعداد اور احتساب ایک جمہوریت کی جڑواں وسعتیں ہیں۔

 

جمہوری فرمان

 

میں یہاں دو  مشکل، مختلف اور اہم ٹیسٹ کیسوں میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کی بات کرنا چاہتا ہوں  اور یہ ہیں افغانستان اور اس کا پڑوسی ملک پاکستان۔

 

میں یہ بات اس لئےکر رہا ہوں کہ پاکستان اور افغانستان بر طانیہ کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سر فہرست ہیں۔

 

تقریبا 800،000 بر طانوی شہریوں کا آبائی تعلق پاکستان سے ہے۔پاکستان میں 80،000بر طانوی شہری قیام پزیر ہیں۔ مائیگریشن نے دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچا یا ہےلیکن اس نے خطرات بھی پیدا کئے ہیں، افغانستان ، پاکستان اور بر طانیہ میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں قریبی رابطے موجود ہیں۔

 

ہم ماضی کے رشتوں کے ساتھ ساتھ حال کے بندھنوں میں بھی بندھے ہوئے ہیں۔پاکستان میں کئی اعتبار سے بر طانوی سلطنت کےدور کا نظام اور ساخت موجود ہے مثلا صوبائی ساخت، پشتون قبائلی علاقے اور باقی پاکستان کے درمیان تقسیم اور ڈیورنڈ لائن۔اور اس میں کیا شک ہے کہ افغانستان کو،

 بر طانیہ اور روس  کے درمیان انیسویں صدی میں ہونے والے 'گریٹ گیم' میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

 

میں یہ دلیل واشنگٹن میں دے رہا ہوں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مستقبل کے لئے امریکا کا کردار بہت اہم ہے۔ ہر ملک میں سب سے بڑے دو طرفہ عطیات دہندہ، پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر اور آئیساف(بین الاقوامی سیکیورٹی معاون فورس) میں سب سے زیادہ تعاون کرنے والے ملک کی حیثیت سے اس خطے میں اس کا جو اثر ہے وہ کسی اور ملک کا نہیں ہے۔مجھے یہ بھی علم ہے کہ سینیٹر بیڈن کی تجاویز سے لے کر جان نیگرو پونٹے کی نیشنل اینڈاؤ منٹ فار ڈیمو کریسی میں حالیہ تقریر تک،پاکستان اور افغانستان کے بارے میں ان دونوں ملکوں سے ہٹ کر امریکا بحث و مباحثے اور نظریات کے لحاظ سے سب سے مفید ذریعوں میں سے ایک ہے۔

 

پاکستان اور افغانستان میں جمہوریت کی مشکلات ، دنیا بھر میں جمہوریت کے داعیوں کی مشکلات کی عکا سی کرتی ہیں۔یہ خاص طور پر اس لئے بھی معلومات افزا ہیں کہ دونوں مختلف ہیں لیکن ایک دوسرے سے مر بوط بھی ہیں۔

 

پاکستان نے 60 سال فوجی آمریتوں اور منتخب سویلین حکومتوں کے درمیان گردش کرتے ہوئے گزارے ہیں۔پاکستان کے وجود میں آنے کے ایک سال کے اندر تقسیم کا انتشار پاکستان کے بانی جناح کی وفات اور کشمیر میں بھارت کے ساتھ جنگ کی وجہ سے مزید بڑھ گیا، اس سے سلامتی کے معاملے میں پاکستان کا رویہ آنے والے کئی سالوں کے لئےبندھ ساگیا۔آئین پر اتفاق رائے میں تقریبا نو سال لگ گئےاور دو سال سے کم عرصے میں ہی ایک فوجی انقلاب اسے بہا لے گیا۔پاکستان نے 28 سال سویلین حکومت دیکھی ہےلیکن 32 سال فوجی حکمرانی بر داشت کی ہے۔ ساٹھ سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان کی زمینی اور سمندری سر حد کے صرف ایک تہائی کا باقاعدہ تعین ہوا ہے۔

 

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان کی جمہوریت کی طرف حالیہ واپسی میں تمام پارٹیوں نے نتائج قبول کر لئے۔نہ صرف مرکز بلکہ صوبوں میں بھی ایک وسیع البنیاد حکومت وجود میں آئی۔ لیکن اقتصادیات، عالمی رحجانات ، اداروں، فوج کی مرکزی حیثیت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان ان کے ماضی کو دیکھتے ہوئے حکومت کو سیاست میں زبر دست چیلنجز کا سامنا ہے۔

 

افغانستان کے لئے امکانات اب بھی کمزور ہیں۔ کئی عشروں کے بحران نے افغانستان کو بر ی طرح منتشر کر دیا ہےمغرب اور سوویت یونیں کے درمیان سرد جنگ کے بعدخانہ جنگی کے انتشار نے لے لی۔ اور حال میں بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان فرنٹ لائن  میں آگیا ہے۔

نتیجے میں یہ ملک دنیا کا پانچواں غریب ترین ملک بن گیا ہے۔ایک پوری نسل تعلیم سے محروم رہی ہے اور صلاحیتیں ضائع ہو گئی ہیں۔خواتیں میں تعلیم کی شرح دنیا بھر میں سب سے کم ہے ۔ اور اس کی حکومت کابل سے باہر کبھی موثر نہیں ہو سکی ہے۔

 

مصائب کے اس لامتناہی سلسلے کو دیکھتے ہوئے تو یہ کہنے کودل چا ہتا ہے کہ جمہوریت کی ضرورت ہی کیا ہے۔لیکن بے نظیر بھٹو نے صحیح کہا تھا کہ " جمہوریت اخلاقی طور پر جواز رکھتی ہے اور جمہوریت ہی انتہا پسندی، جنگجوئی اور جنونیت کو روک سکتی ہے جس نے دنیا کو خطرے سے دوچار کر رکھا ہے۔۔۔ہم عوام کے حقوق کے تحفظ اور پاکستان کے اتحاد کی حفاظت کے لئے جمہوریت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہمارا عزم یہ ہے کہ اختیارات ، ملازمتوں، اور تعلیم کے ذریعے میرے ملک کے خطوں کو بین الاقوامی اور ملکی دہشت گردی کے منصوبوں کے لئے تجرباتی پلیٹ بننے سے روکا جائےجن سے ہم سب کو خطرہ ہے''۔یہی بات افغانستان کے بارے میں کہی جاسکتی ہے اور کہی جانی بھی چاہیئے۔

 

جمہوریت کی تعمیر

 

پاکستان نے یہ جاننے میں 60 سال صرف کردئیے اور یہ کبھی کبھی تکلیف دہ بھی رہا  کہ جمہوریت کی کامیابی میں کتنی مشکلات آتی ہیں۔افغانستان میں یہ عرصہ مختصر لیکن شاید زیادہ شدید رہا۔ہمیں ان دونوں ملکوں کے تجربات پر غور کرنا چاہیئے۔

 

سب سے پہلے تو سیاسی مصالحت اور فوجی کارروائی کے درمیان کسی جعلی انتخاب کو مسترد کرنا ہوگا۔

 

افغانستان اور پاکستان کو موثر سیکیورٹی فورسز کی ضرورت ہے۔انہیں تشدد پر آمادہ افراد کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے جہاں ضرورت ہو بین الاقوامی مدد لینا چاہیئے۔لیکن فاٹا یا گریشک وادی کے مسائل کا حل فوجی نہیں۔  سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی بر قرار رکھنے کی جدوجہد میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے 2002 سے اب تک 800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود انتہا پسندی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس لئے ہمیں ان افراد سےجو اپنے نظریات کو اسلحے کی طاقت سے مسلط کر نا چاہتے ہیں ، ان افراد کو الگ تھلگ کر نا ہوگا جو ایک آئینی نظام کی آزادیوں اور حدود کو قبول کرنے پر آمادہ ہیں۔ہمیں عوامی سیاست کے اندر متقابل مفادات کے ہر ممکن سلسلے کو سمونے کی کوشش کرنا ہوگی۔

 

آج افغان پارلیمنٹ میں ملا راکٹی جو سابق طالبان کمانڈر تھے اسی چیمبر میں بیٹھتے ہیں جہاں کمیونسٹ دور کے فوجی کمانڈر جیسے نورالحق علمی اور محمد گلاب زئی بیٹھے نظر آتے ہیں۔

 

سیکیورٹی اقدامات علامات سے تو نمٹ سکتے ہیں لیکن اندرونی اسباب کے انسداد کے لئے سیاست کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی لئے میں افغانستان کے آئین سے تمام پارٹیوں کی مصالحت کے لئے صدر

کر زائی کی  کوششوں کی قدر کرتا ہوں۔ پاکستان کی حکومت کو مختلف گروپوں سے جن میں سے اکثر سیاسی میدان سے باہر ہیں، مذاکرات جاری رکھنا ہونگے تاکہ ان کو پر تشدد انتہا پسندی سے ہٹاکر سیاست کی طرف لایا جا سکے۔وزیر اعظم یوسف گیلانی نے کہا ہے کہ وہ ' بلوچستان اور دوسرے صوبوں کے عوام کے خلاف نا انصافیوں' کا جائزہ لینے کے لئے سچائی اور مصالحت کمیشن  سے متعلق تجاویز کو آگے بڑھا ئیں گے۔

 

ایسے عناصر بھی ہونگے جو جمہوری اصولوں اور قانون کی حکمرانی کی مزاحمت کریں گے اورتشدد پر ڈٹے رہیں گے۔افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کو ہماری مدد سے اپنے ہی عوام کا دفاع کر نا ہوگا خواہ اس کے لئے انہیں قوت استعمال کر نا پڑے۔لیکن افغانستان اور پاکستان دونوں میں ایسے لوگ ہیں جنہیں تشدد کے لئے ان کے نظریات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے بھرتی کیا گیا ہے۔ان افراد کو سیاسی عمل میں شامل کرنے سے ، انہیں آواز فراہم کرنے سے اور انہیں اصولوں کے مطابق عمل کرنے پر آمادہ کرنے سے میرے خیال میں آپ ریاست کو کمزور کرنے کی بجائے اسے مضبوط بنا سکتے ہیں۔

 

دوسرا سبق یہ ہے کہ ملکوں کو محض جمہوری اور معتبر انتخابات کی ہی نہیں بلکہ جمہوری اور موثر ریاست کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

افغانستان میں اور پاکستان کے کچھ حصوں میں ریاست کمزور ہے۔حکومتیں اپنے بنیادی فرائض انجام دینے کے لئے جدوجہد کرتی ہیں جیسے کہ تحفظ، فلاح و بہبود اور انصاف کی فراہمی۔انہیں ریاست کے باہر ایسے نیٹ ورکس سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو انتخابات کے نتیجے میں نہیں بلکہ رشتے داری اور قبائلی ساخت کےاعتبار سے جوابدہ ہوتے ہیں۔

 

اس لئے انتخابات ہمیشہ ناگزیر ہوتے ہیں لیکن کبھی بھی کافی نہیں ہوتے۔تحفظ کی فراہمی اور انصاف مہیاکرنے کے لئے ایک موثر ریاستی اہلیت کے بغیر جمہوریت سطحی ہوتی ہے۔افغانستان اور فاٹا دونوں میں لوگ صرف طالبان یا دہشت گردوں کے حملے سے ہی نہیں بلکہ جرائم سے بھی خفزدہ رہتے ہیں۔یہاں اختلافات کو طاقت کی بجائے قوانین کی بنیاد پر حل کرنے کے لئے ایک ایسی مضبوط پولیس فورس اور ایک خود مختار عدلیہ کی ضرورت ہے جسے یہاں کے عوام قبول کرتے ہوں۔فرنٹئیر کرائمز ریگولیشنز جو 1901 میں ڈیورنڈ لائن کے اطراف پشتون قبائل کو مطیع بنانے اور ان کی تنظیم کرنے کے لئے متعارف کئے گئے تھے اور جو اجتماعی سزا کو جائز قرار دیتے ہیں ، فاٹا کی اکثریت ان میں اصلاح یا ان کا خاتمہ چاہتی ہے۔

 

افغانستان میں پولیس کے اندر رشوت ستانی اور سنگین جرائم سے نمٹنے میں ان کی ناکامی افغانوں کے ذہن میں ان کی حکومت پر بد اعتمادی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ایک موثر افغان نیشنل آرمی کی تشکیل میں پیش رفت ایک بہت بڑا قدم ہے۔لیکن ایک معتبر پولیس فورس بنانے اور اسے موثر عدلیہ اور تعزیری نظام کے ذریعے استحکام دینے کے لئے ایسے ہی ایک اور قدم کی ضرورت ہے۔ بے شمار عام افغانوں نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ملک کے کئی دیہاتوں میں افغان نیشنل پولیس کو مسئلوں کے حل کی بجائے خود ایک مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔

سیکیورٹی اور انصاف ایک بنیادی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔لیکن شہریوں کی ریاست سے وفادار ی قائم رکھنے کے لئےاسے ایک ایسی بنیاد بھی قائم کر نا ہوتی ہے جو معاشی بہبود، سماجی ارتقا، صحت اور تعلیم سے لے کر بنیادی اسٹرکچر تک جس میں پانی کی فراہمی، توانائی کی پیداواراور ٹرانسپورٹ تک کی ضمانت دے سکے۔

 

بنیادی خدمات کی کمی پاکستان کی سلامتی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ہم نے پاکستان میں مشاہدہ کیا ہے کہ جہاں متبادل اسکول نہیں ہیں وہاں مدرسوں نے خلا پر کیا ہے۔تعلیم میں مزید سرمایہ کاری کرکے جو کہ قبائلی علاقوں میں بھی کی جائے، پاکستانی عوام کو ایک انتخاب کا موقع دیا جا سکتا ہے۔نئی حکومت نے بڑی جرآت سے کام لیتے ہوئے دہشت گردی کی روک تھام کو اپنی اولین ترجیح

 قرار دیا ہے۔لیکن اس نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ بے روزگاری اور غربت پر توجہ دینا پاکستان کے مستقبل کے لئے بہت اہم ہے اور انہوں نے کم از کم اجرت متعارف کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

 

 

افغانستان میں فلاحی خدمات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن بہت نچلی سطح سے ۔ لڑکیوں کے لئے اسکول جانا غیر قانونی تھا۔ جبکہ اب تقریبا دو ملین لڑکیاں ابتدائی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔جاگوری میں 85خواتین نے اس سال کابل یونی ورسٹی میں داخلے کے لئے امتحان دیا۔ 2001 میں للسار جنگل ضلع میں صرف ایک ہیلتھ کلینک تھا آج ان کی تعداد 17 ہے۔

 

تیسرے یہ کہ  جمہوریت کی تعمیر نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے دونوں طرح ہونا چاہیئے۔مرکزی حکومت،  پاکستان اور افغانستان کے عوام کے روزمرہ کے مسائل سے دور ہو سکتی ہے اس لئے مقامی اور صوبائی سطح پر اہلیت اور قانون کی حکمرانی کی تشکیل کو ترجیح دینا ضروری ہے۔افغانستان میں قومی استحکام پروگرام کے ذریعےجسے بر طانیہ نے 75 ملین یو ایس ڈالر کے ساتھ تعاون کیا ہے، 20،000 کمیونٹی ڈیولپمنٹ کونسلیں وجود میں آئی ہیں جو دیہی سڑکوں، کنوؤں اور اسکولوں جیسے ترقیاتی منصوبے بناتی ، انہیں چلاتی اور ان کی نگرانی کرتی ہیں۔

 

پاکستان میں بر طانوی حکمرانی کی باقیات میں قومی سیاست پر پنجاب کا تسلط اور ایک ایسی قبائلی پٹی تھی جس پر کوئی حکومت نہیں تھی۔اس کا جواب ضلعی اور صوبائی حکومتوں کو مضبو ط کرکے ان کا سلسلہ مرکزی حکومت سے جوڑ نا تھا۔یہ محض اتفاق نہیں کہ فاٹا میں جہاں صحت اور خواندگی کی سطح پاکستان کی اوسط سطح سے بہت کم ہے اور جہاں قانون کی موثر حکمرانی موجود نہیں وہیں سے پچھلے سال پاکستان میں ہونے والے 57 خودکش دھماکوں میں سے 23 کا تعلق تھا۔اس دور دراز اور فراموش کردہ علاقے کے نصف سے زیادہ باشندے ناخواندگی کو "طالبانائزیشن" کا بڑا سبب بتاتے ہیں ۔اسی لئے نئی حکومت کا فاٹا میں مزید معاشی اور سیاسی ترقی اور بہتر گورننس پر زور دینا درست ہے۔اس بات کی شہادت موجود ہے کہ وہاں عام لوگ اصلاحٓات کے خواہش مند ہیں ، وہ فاٹا میں سیاسی جماعتوں پر عائد پابندیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

 

چوتھے، جمہوریت اس وقت تک موثر طریقے سے کام نہیں کر سکتی جب تک کہ طاقت کسی ایک ادارے میں مرکوز ہے خواہ وہ فوج ہو یا انتظامیہ۔ استحکام کے لئےریاست کے مختلف شعبوں  جیسے پارلیمنٹ، عدلیہ، اور فوج،  اور ریاست، سول سو سائٹی اور فرد کے درمیان  طاقت کی تقسیم میں توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

پاکستان کی فوجی اور سویلین وسعتوں میں طاقت میں عدم توازن مسلسل عدم استحکام کی وجہ رہی ہے۔سیاست پر فوج کا کنٹرول جمہوری حکومت کو بالغ ہونے اور شخصی سیاست سے نکل کر پالیسیوں کی بنیاد پر بات چیت کرنے میں مانع رہا ہے۔

 

پاکستانی معاشرے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے فوج کا ایک اہم کردار جاری رہے گا۔لیکن فوج کا سیاست سے دور رہنے کا وعدہ قائم رہنا چاہیئے۔ اسے اس وقت بھی شہری انتظامیہ کو قبول کرنے کے لئے تیار رہناہوگا جب وسائل دفاع سے ہٹا کرمعاشی ترقی اور سماجی بہبود پر صرف کئے جائیں گے۔

 

جمہوریت کو داؤ پیچ اور کرپشن سے محفوظ رکھنے اور اس بات کی ضمانت دینے کے لئے کہ اختلافات اصولوں کی بنیاد پر حل کئے جائیں نہ کہ طاقت سے، ایک خود مختار عدلیہ بہت ضروری ہے۔لیکن افغانستان میں جہاں ایک اوسط خاندان کو پورے مہینے گزارہ کرنے کے لئے 115 یو ایس ڈالر درکا رہوں لیکن ایک جج کی تنخواہ 100 یو ایس ڈالر سے بھی کم ہو اور جیل کے محافظوں کو صرف 42 ڈالر ملتے ہوں ایک خود مختارعدلیہ کا قائم ہونا ایک بہت مشکل کام ہے۔اس کے لئے بین الاقوامی کمیونٹی کو مالی اور تربیتی دونوں شعبوں میں تعاون کے ذریعے مدد کرنا ہوگی۔

 

ریاست سے ماورا چیک اور بیلنس بھی کسی حکومت کو جوابدہ بنانے کے لئے اتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے متحرک میڈیانے، جسے پچھلے سال کے آخر میں پیچھے ہٹناپڑا تھا، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی ضرورت کو اجاگر کرنے میں نمایا ں کردار ادا کیا ہے۔افغانستان میں آزاد میڈیا کو حکومت کو جوابدہ بنانے اور اگلے دو سال میں ہونے والے انتخابات کے لئے عوام کو باخبر رکھنے کے لئے ایک اہم کردار ادا کر نا ہے ۔سول سوسائٹی اور غیر سرکاری تنظیمیں ( این جی اوز) عوام کو ریاست سے رابطہ رکھنے کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرکے گورننس کو مستحکم  کر سکتی ہیں۔

 

آخری سبق یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے پر الزام عائد کرنا بند کر دیں اور اپنے مشترکہ مفادات کو تسلیم کرتے ہوئے مل کر کام کریں۔ اگر دہشت گردی کا خطرہ افغان پاکستان سرحد کے آر پار دھکیلا جاتا رہا تو جمہوریت کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہو جائیں گے۔۔شورش پر قابو پانے کے لئے ایک مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

 

اس کے لئےتاریخی ترجیحات کے دوبارہ تجزئیے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے روایتا خطرے کو بھارت سے منسوب کر رکھا ہے۔ جبکہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات پچھلے پانچ سال میں نمایاں طور سے بہتر ہوئے ہیں۔آج بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکرجی کی ملاقات پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ہوئی ہے۔افغانستان، پاکستان اور بھارت نے ایک گیس پائپ لائن پراصولی اتفاق کر لیا ہےجو تر کمانستان سے گیس ، افغانستان اور پاکستان کے راستے بھارت لے جائیگی۔ دہشت گردی اور وسائل کی کمی سے متعلق افغانستان، پاکستان اور بھارت کے مشترک خطرات انہیں اس خطے میں باہم تعاون پر آمادہ کر رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 بین الاقوامی رابطے

 

اب تک میں ان مواقع اور ذمے داریوں کے بارے میں بات کر رہا تھا جو پاکستان اور افغانستان سے متعلق ہیں۔اب میں اپنی تقریر کےاختتام پر دونوں ملکوں میں، حقیقی جمہوریت کی ترقی میں مدد دینے کے لئے بین الاقوامی کمیونٹی کے کردار پر بات کرنا چاہتا ہوں۔

 

جمہوری گورننس کے لئے سب سےمتناسب تنقیدان عناصر کی طرف سے نہیں ہوتی جو یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت ہمارے قومی مفاد میں ہےیا نہیں، یا یہ عالمی قدرکی نمائندگی بھی کرتی ہے یا نہیں ، بلکہ یہ تنقید وہ لوگ کرتے ہیں جن کی دلیل یہ ہے کہ جمہوریت کامحرک ملکوں میں داخلی تبدیلی ہے نہ کہ بیرونی اثرات اور یہ کہ جمہوریت کو جبرا نافذنہیں کیا جاسکتا۔

 

ہمیں اپنی تاریخ کی بناپر یہ علم ہے کہ جمہوری عمل بنیادی طور پر مقامی حرکیات اور دباؤ سے وقوع پزیر ہوتا ہے،ریاست اس وقت نمائندگی کھو دیتی ہے جب اسے مزیدوسائل کی ضرورت ہو یا بڑھتا ہوا متوسط طبقہ اپنے معاشی وزن کے مطابق سیاسی اقتدار طلب کرتا ہے۔لیکن بیرونی عناصر کااپنا جائزمفاد مفادہو تا ہے اوراسکے اچھے یا برے اثرات ہوتے ہیں۔

 

اول یہ کہ جمہوریت سے وابستگی کے لئے فوجی تعاون بھی درکارہوتا ہے اس سے انکار یا اس کو بدنام نہیں کیاجاتا۔

 

پاکستان میں نئی حکومت اور آرمی چیف آف اسٹاف ، شورشوں کی روک تھام کے لئے فوج کی اہلیت کومستحکم کرنے کی ضرورت کوتسلیم کرتے ہیں۔اس سلسلے میں مدد کی کسی درخواست پر ردعمل کے لئے ہمیں تیار رہنا چاہیئے۔

 

افغانستان میںاپنے اتحادیوں اور نیٹو ، یورپی یونین اور بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر ہمیں سویلین اور فوجی استعداد کے لئے طویل مدت کمٹ منٹ کرنا ہوگا۔سفارتی اور سویلین کوششوں کے لئے فوج کی امداد درکار ہوگی۔لیکن ہمیں اپنی فوجوں کے  عسکری کردار کو ایک تربیت دہندہ اور نگراں کے کردار میں تبدیل کرنے کا عمل تیز تر کرنا ہوگا اور افغانستان کی اپنی فورسز ریاست کے استحکام کے لئے جدوجہد کی قیادت کریں گی۔فوج کے ساتھ ساتھ ریاست اور معیشت کے لئےناگزیر اداروں کی تشکیل و تعمیر کے لئے تعاون کو ترجیح دینا ہوگا،ان اداروں میں ججوں اور پولیس کی تربیت کرنے والوں سے لے کر زراعت ،پانی اور توانائی کی پیداوار شامل ہیں۔  سویلین استعدادکو فوجی استعداد کے مساوی آنا ہوگا۔

 

دوئم یہ کہ ہمارےامدادی بجٹ کی مدد سے افغانستان اور پاکستان کی جمہوری منتخب حکومتوں کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے عوام کی ضروریات کی تکمیل  کے لئے آگے بڑھ سکیں۔اگر جمہوریت کی بنیادی ضرورت، حکو مت کی اہلیت ہے تو ریاستی تعمیر اور انفرا سٹرکچر میں ہماری سرمایہ کاری اتنی ہی اہم ہونی چاہیئے جتنی کہ فوجی تعاون میں سرمایہ کاری ہوسکتی ہے۔ اور ہماری سر مایہ کاری کو نتائج سے مر بوط ہونا چاہیئےجس میں جمہوری گورننس میں بہتری شامل ہے۔

 

برطانیہ نے پاکستان میں ترقیاتی مصارف میں اگلے تین سال کے لئے رقم دگنی کرکے تقریبا1بلین یوایس ڈالرکردی ہے۔اور اچھی

 گو رننس اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کوترجیح دی جا رہی ہے۔ افغانستان میں ہمارے عطیات کا تقریبا 80 فی صد براہ راست حکومتی نظام کے ذریعےاسکولوں،ٹیچروں، اسپتالوں، ڈاکٹروں اور افغان عوام کے لئے دوسری سروسز کے لئے دیا جاتا ہے۔پاکستان میں یہ تناسب 83 فی صدہے۔امداد کی فراہمی بر وقت اور شفاف ہونا ضروری ہے تاکہ حکومت اپنی سر گر میوں کی منصوبہ بندی کرسکے اور پارلیمنٹ میں اخراجات پر عام بحث ہو سکے۔

 

سوئم سفارتکاری ۔اس خطے میں بہت سے لوگ ہمارے اثرکو کچھ زیادہ ہی گر دانتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم پردے کے پیچھے سے اب بھی واقعات کے جوڑ توڑ اور سیاسی خطوط کے متعین کرنے میں شریک ہیں۔یہ ہمارے اپنے مفادات کے اور پاکستان کےخلاف ہے، اس سے پاکستان میں اپنے معاملات کی ذمے داری اور اپنےاحساس ملکیت پر زد پڑتی ہے۔جمہوریت کی حمایت کا مطلب ہے اصولوں کی حمایت نہ کہ شخصیات کی، اداروں کی نہ کہ افراد کی۔سیاستداں آتے جاتے رہتے ہیں، کچھ ہمارے ایجنڈا کے لئے زیادہ معاون ہوتے ہیں اور کچھ کم۔لیکن یہ عدلیہ کی آزادی، مسلح افواج کی پیشہ ورانہ اہلیت، الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اور پولیس کے اختیارات ہیں جو آگے چل کر ایک ذمے دار اور جوابدہ حکومت کی ضمانت دیتے ہیں۔

 

افغانستان اور فاٹا دونوں میں ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ حکومت کی مصالحتی کوششیں ان عناصر تک پہنچ جائیں گی جو ہمارے لئے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ واضح طور سے کہنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں اس خطے میں ہماری افواج کو یا ہمارے وطن میں ہمارے شہریوںکو ایک بڑے خطرے سے دوچار کر رہی ہیں، ایسے معاہدے کر رہی ہیں جو انتہا پسندوں کو ہمپر حملوں کے لئے آزاد چھوڑ دیں گے۔لیکن مصالحت کا عمل اس وقت دیر پا طور سے جائز اور موثر ہوگا جب اس میں مقامی عنصر ذمے دار ہو۔

 

اختتامیہ

 

ایک ماہ پہلے پشاور کے دورے میں ، میں ان لوگوں کے عزیزوں سے ملااور بات چیت کی جو پاکستان میں سیاسی جلسوں کے دوران ہلاک ہوگئے تھےتو میں یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ وہ سب سیاست پر بات کر نا چاہتے تھے۔بے شک کچھ لوگ پاکستان میں مغربی اثر پر اپنی مایوسی کا اظہارکرنا چاہتے تھے،جبکہ دوسرے محض ان وجوہ پر موثر ضرب چاہتے تھے جو بنیاد پرستی کو جنم دیتے ہیں۔ لیکن وہ سب اپنی رائے کا اظہار چاہتے تھے۔  ان کی اپنی سوچ تھی اور وہ اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے لئے اختیارات چاہتے تھے۔

 

افغانستان میں جمہوریت کے لئے اتنی ہی گہری خواہش موجودہے وہاں30 سال میں پہلی بار ہونے والے انتخابات کا عوام نے بڑی گرمجوشی سے خیر مقدم کیا۔ کابل میں ہر دیوار اور بجلی کے کھمبے پر رنگ برنگ انتخابی پوسٹرچپکے ہوئے تھے ۔ دیہی علاقوں میں بڑی تعداد میں عورتیں، خانہ بدوش اور بوڑھے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے بے تاب نظر آتے تھے اور پولنگ کے عملے سے ووٹ ڈالنے کا طریقہ سمجھنے کی سخت کوشش کر رہے تھے۔

 

جمہوریت کوئی ایک رات کا تما شانہیں۔یہ کئی عشرے بلکہ سینکڑوں سال مانگتی ہے۔اس میں ناکامیاں ہوتی ہیں،بحران آتے ہیں،خطرات جنم لیتے ہیں، داخلی اور بیرونی خطرات سے واسطہ پڑتا ہے لیکن یہ زندہ رہتی ہے کیونکہ بہر حال یہ عوام کی خواہش ہے۔جمہوریت ان تضادات کو ختم کرنے کے لئے ہوتی ہے جو لوگوں کے درمیان پیداہوتے رہتے ہیں۔انہیں صرف اس نکتے پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو طاقت سے نہیں بلکہ سیاست کے مشکل ،طویل مگر معتبرراستے کے ذریعے حل کریں گے۔

 

اس موضوع پربات کرنا بھی بعض اوقات زندگی اور موت کامسئلہ ہوتا ہے۔ جبری معاشروں میں جب جرآت مندلیکن بدقسمت افراد جابروں کے ظلم کی پرواہ نہ کرتے ہوئے یہ بات کہتے ہیں تو انہیں خوش نصیبوں سے صرف ان کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم یہ تعاون پیش کرسکیں تو یہ ہمارے قومی مفادمیں ہوگا۔ ہم اپنے لئے بہتری پیداکریں گے ۔لیکن اس سے بھی بڑھ کرہم ان کے لئے بہتری پیداکر رہے ہونگے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تلاش کے لئے اشارے

واپس اوپر